ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حکومت کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں چیف جسٹس اِندو ملہوترا کی تقرری کوٹھہرایا جائز۔ سپریم کورٹ کا گلا گھونٹنے کی سازش پھر بے نقاب: کانگریس

حکومت کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں چیف جسٹس اِندو ملہوترا کی تقرری کوٹھہرایا جائز۔ سپریم کورٹ کا گلا گھونٹنے کی سازش پھر بے نقاب: کانگریس

Fri, 27 Apr 2018 14:09:17    S.O. News Service

نئی دہلی،26؍اپریل(ایس او نیوز؍ ایجنسی) ملک کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے جمعرات کو حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے کالجیم کی سفارش کے بعد بھیجے گئے ججوں کے ناموں میں سے اپنی مرضی کا جج منتخب کر کے اس کی تقرری کرے۔

دراصل سپریم کورٹ کے 100 وکیلوں نے چیف جسٹس سے گزارش کی تھی کہ وہ سینئر وکیل اندو ملہوترا کو سپریم کورٹ کا جج تقرر کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے بھیجے گئے صدر کے پروانے پر روک لگا دیں۔ لیکن چیف جسٹس نے اس عرضی کے جواب میں جو کچھ کہا وہ نہ صرف غیر تصوراتی ہے بلکہ اس کا کوئی جواز بھی نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر حکومت جسٹس کے ایم جوزف کو پروموشن دے کر سپریم کورٹ بھیجنے کے فیصلے پر ازسر نو غور کرنا چاہتی ہے تو اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ، ’’اگر 4 نام بھیجے گئے اور اس میں سے حکومت نے صرف 2 ہی نام کو منظور کیا ہے تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اب یا تو سارے نام منظور کرو یا سارے نام خارج کرو؟ ایسے میں سپریم کورٹ کام کس طرح کرے گا؟‘‘ماہرین قانون نے چیف جسٹس کی اس دلیل پر سوال کھڑے کئے ہیں۔

انھوں نے حوالہ دیا ہے کہ کالجیم اور کالجیم کے ذریعہ طے کئے گئے میمورینڈم آف پروسیجر یعنی عمل کی تجویز، دونوں ہی میں واضح ہے کہ حکومت کالجیم کے ذریعہ بھیجے گئے ناموں میں سے اپنی مرضی سے کوئی نام منظور یا خارج نہیں کر سکتی ہے۔ کالجیئم کا میمورینڈم آف پروسیجر گذشتہ سال جولائی سے حکومت دبا کر بیٹھی ہے۔گوپال سبرامنیم کی تقرری کے عمل میں چیف جسٹس اور کالجیم کے درمیان یہ تقریباً طے ہو گیا تھا کہ حکومت کالجیئم کے ذریعہ طے کئے گئے ناموں میں سے مرضی کے نام نہیں منتخب کر سکتی۔ ایک مشہور قانون داں نے کہا ، ’’حکومت یا تو سارے نام منظور کرتی ہے یا خارج۔ یہ انتظام اس لئے ہے کہ اس سے جج حکومت کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور اس لئے بھی کہ اگر ایسا ہونے دیا گیا تو حکومت ججوں کی سینئرٹی میں رد و بدل کر سکتی ہے۔ ایسے میں عدالتی آزادی کے لئے کالجیئم کے ذریعہ بھیجے گئے ناموں کا اعتبار بنائے رکھنا لازمی ہے۔

کالجیم نے کے ایم جوسف اور اندو ملہوترا دونوں کے ناموں کی سفارش کی تھی۔ موجودہ قوانین کے مطابق یا تو حکومت دونوں ناموں کو مان لے یا دونوں کو نامنظور کر دے۔ حکومت اپنی مرضی سے کسی کو نہیں چن سکتی۔ ایسے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اِندو ملہوترا کیس تقرری میں حکومت کے پاس کالجیم کی قانونی سفارش نہیں ہے۔ اور اِندو ملہوترا کو جج عہدہ کا حلف دلانا غیر قانونی ہوگا۔اس معاملے پر ایک سینئر وکیل نے کہا کہ اگر اِندو ملہوترا کی تقرری کو قانونی جامہ پہنانا ہے تو کالجیئم کو ایک بار پھر بیٹھنا ہوگا اور صرف انہی کے نام کی سفارش حکومت کے پاس بھیجنی ہوگی‘‘۔اس سے قبل اِندو ملہوترا کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے اور جسٹس کے ایم جوزف کے نام کو نظر انداز کئے جانے پر وکیلوں نے زبردست ناراضگی ظاہر کی۔

مشہور وکیل اندرا جئے سنگھ نے تو اِندو ملہوترا سے اپیل کی کہ وہ جمعہ کو ہونے والی حلف برداری میں شریک نہ ہوں۔ انہوں نے وکیلوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس غیر قانونی تقرریوں کو روکیں۔ انھوں نے ٹوئٹ کیا ، ’’تنہا اِندو ملہوترا کو جج مقرر کرنے کے لئے کالجیئم نے کوئی سفارش نہیں کی ہے۔ ایسے میں ان کی تقرری غیر قانونی ہے۔ انہیں تقرر کرنے کے لئے کالجیئم کو پھر سے بیٹھ کر صرف ان کے نام کی سفارش کرنی ہوگی۔ کیا چیف جسٹس عدلیہ کی آزادی کے لئے قدم اٹھائیں گے؟۔‘‘

دوسری جانب اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ایم جوزف کی سپریم کورٹ میں تقرری روکنے پر کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے حکومت پر سوال کھڑے کئے ہیں۔چدمبرم نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ’’مجھے خوشی ہے کہ اندو ملہوترا سپریم کورٹ کی جج کے طور پر حلف لیں گی۔ لیکن میں اس بات سے مایوس ہوں کہ جسٹس کے ایم جوزف کا پرموشن روک دیا گیا ہے۔ کے ایم جوزف کی ترقی کیوں روکی گئی؟ اس کی وجہ ان کی ریاست ہے، مذہب ہے یا پھر ان کا وہ فیصلہ جو انہوں نے اتراکھنڈ کے تعلق سے دیا تھا؟

‘‘کانگریس کے ترجمان کپل سبل نے یہاں اخباری کانفرنس میں کہا کہ قانون کہتا ہے کہ انہی ججوں کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا جانا چاہئے جن کے نام کی سفارش کالیجےئم نے کی ہے ۔ کالیجےئم نے جسٹس جوزف کے نام کی سفارش کی تھی اوران کے بارے میں بہترین ریمارکس دئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ کالیجےئم کے اس ریمارک کو اس سال 10 جنوری کو سپریم کورٹ نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا تھا۔ ویب سائٹ میں جسٹس جوسف کو سب سے بہتر جج بتاکر ان کی کافی تعریف کی گئی تھی۔اس کے باوجود اب تک ان کو سپریم کورٹ کا جج نہیں بنایا گیا ۔ اس کے برخلاف ان کا نام کالیجےئم میں دوبارہ غور کرنے کے لئے بھیج دیا گیا ہے ۔ترجمان نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ مفاد عامہ میں اسے ججوں کی تقرری کے عمل کو تیز کرنا چاہئے ۔ سپریم کورٹ میں صرف 24جج ہیں جن میں سے 6؍ اسی سال ریٹائر ہونے والے ہیں۔ ہائی کورٹوں میں ججوں کے 410عہدے خالی ہیں۔ لوگوں کے معاملات پر جلد سماعت ہو اس کیلئے ان عہدوں پر تقرری ہونی چاہئے ۔

اس دوران کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹوئٹ کرکے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی انتقامی سیاست سے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ،’’ عدلیہ کے سلسلے میں وزیر اعظم مودی کی انتقامی سیاست اور سپریم کورٹ کا سازش کے تحت گلا گھونٹنے کی کوشش پھر بے نقاب ہوگئی ہے ۔ جسٹس جوزف سینئر چیف جسٹس ہیں اس کے باوجود مودی حکومت نے سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے سے انکار کردیا۔کیا مودی حکومت نے یہ فیصلہ اس لئے کیا کہ جسٹس جوزف کی عدالت نے اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ عائد کرنے کے فیصلے کو منسوخ کردیا تھا۔ مودی حکومت عدلیہ کے وقار اور آئینی اداروں کی بالاتری کو برباد کرنے کی مسلسل کوشش کررہی ہے ‘‘۔اسی دوران مارکسی کمیونسٹ پارٹی(سی پی ایم) نے سینئر ایڈوکیٹ اندوملہوترا کو سپریم کورٹ کا جج کے طور پر ترقی دینے کے فیصلے کا آج خیر مقدم کیا۔ تاہم متنبہ کیا کہ جسٹس کے ایم جوزف کی تقرری کو منظوری نہ دینے سے ’’عدلیہ کی آزاد ی‘‘پر اثر پڑے گا۔پارٹی کے پولٹ بیورو کی طرف سے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کافی تاخیر کے بعد عدالت عظمی کے لئے صرف محترمہ اندو ملہوترا کی تقرری کو منظوری دی گئی ۔

پارٹی نے اس پورے معاملے کو ججوں کے انتخا ب کے عمل میں غیر ضروری مداخلت قرار دیا اور کہا کہ اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوگی۔پارٹی نے صدر سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں فوراً مداخلت کریں اور ججوں کی تقرری کے لئے مقررہ طریقۂ کارپر عمل درآمد کو یقینی بنائیں نیز جسٹس جوزف کی تقرری کو منظوری دیں۔


Share: